حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم کے استادِ خارج اور جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن آیت اللہ نجم الدین طبسی نے رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے اپنی مختلف ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے تواضع، ادب، اخلاق، معرفت، عوام دوستی اور بالخصوص طلبہ کے ساتھ احترام و محبت کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔
علمی نشست میں رہبرِ شہید کا تواضع
آیت اللہ طبسی نے ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ نشست امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے منعقد ہوئی تھی، جس میں تقریباً 200 سے 300 افراد شریک تھے۔ انہوں نے اس نشست میں تقریباً 40 منٹ خطاب کیا، جس کے بعد رہبرِ شہید نے خطاب کے بعض موضوعات پر گفتگو کی اور تقریباً 40 سے 50 منٹ تک باہمی تبادلۂ خیال ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران ابن عباس اور دیگر موضوعات پر بھی بات ہوئی۔ اس موقع پر رہبرِ شہید نے کتاب «النفی و التغریب» کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک اچھی کتاب ہے، جس میں فقہی اور تاریخی مباحث موجود ہیں اور انہوں نے اسے ابتدا سے انتہا تک پڑھا ہے۔
آیت اللہ طبسی کے مطابق، رہبرِ شہید نے تاکید کی کہ تمام مصروفیات کے باوجود انہوں نے اس کتاب کا مکمل مطالعہ کیا تھا اور چند سال قبل بھی اسے پوری طرح پڑھا تھا۔ اسی ملاقات میں آیت اللہ طبسی نے اپنے غیر مطبوعہ دروسِ خارجِ فقہ کے تقریرات کا ٹائپ شدہ نسخہ بھی پیش کیا، جسے رہبرِ شہید نے مطالعہ اور اظہارِ نظر کے لیے اپنے پاس رکھ لیا۔
کتاب ’’زندان در اسلام‘‘ کا کئی مرتبہ مطالعہ
آیت اللہ طبسی نے اپنی دوسری ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ 1372 ہجری شمسی، یعنی تقریباً 1993ء کا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب «زندان در اسلام» رہبرِ شہید کو ارسال کی اور دفترِ رہبری سے کتاب کے بارے میں ان کی رائے جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد دفتر سے اطلاع ملی کہ رہبرِ شہید ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں تقریباً 20 سے 30 افراد موجود تھے، تاہم بعد میں گفتگو نسبتاً خصوصی ہوگئی۔ اس موقع پر رہبرِ شہید نے کتاب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اسے چار یا پانچ مرتبہ ابتدا سے انتہا تک پڑھا ہے۔
آیت اللہ طبسی نے کہا کہ یہ کتاب تقریباً 700 سے 800 صفحات پر مشتمل تھی اور رہبرِ شہید نے اسے ایک اہم اور قابلِ رجوع کتاب قرار دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں آیت اللہ محمد یزدی نے نمازِ جمعہ کے پہلے خطبے میں اس کتاب کا ذکر کیا اور انہیں بتایا کہ خطبے سے قبل انہوں نے بھی رہبرِ شہید کے ساتھ اس کتاب پر گفتگو کی تھی۔
ابنِ تیمیہ کی کتابوں کی نمائش پر پابندی کی درخواست
آیت اللہ طبسی نے بتایا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے ابنِ تیمیہ اور اس کی کتابوں کا موضوع بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق، انہوں نے عرض کیا کہ بعض اہل سنت علماء نے بھی ابنِ تیمیہ کے خلاف مطالب بیان کیے ہیں اور اسے زندیق اور دین سے خارج قرار دیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کی کتابیں بازار میں دستیاب ہیں۔
انہوں نے رہبرِ شہید سے درخواست کی کہ ایران میں ابنِ تیمیہ کی کتابوں کی تقسیم اور نمائش روکنے کے لیے ہدایت جاری کی جائے۔
آیت اللہ طبسی کے مطابق، رہبرِ شہید نے دریافت کیا کہ کیا یہ کتابیں بازار میں دستیاب ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وزارتِ ارشاد انہیں کتاب میلوں میں لاتی ہے۔ اس پر رہبرِ شہید نے ناراضی کا اظہار کیا اور آقای محمدی کو ہدایت دی کہ اس معاملے کو نوٹ کرکے اس کی پیروی کریں۔
برسوں بعد بیروت میں نتیجہ سامنے آیا
آیت اللہ طبسی نے کہا کہ کئی سال بعد جب وہ بیروت گئے اور ضاحیہ کے ایک کتابوں کی دکان میں موجود تھے تو انہوں نے ایک کتاب فروش کو دوسرے سے ایران میں ابنِ تیمیہ کی کتابوں کی صورتِ حال کے بارے میں گفتگو کرتے سنا۔
کتاب فروش بتا رہا تھا کہ ایران کے کتاب میلوں میں جب بھی ابنِ تیمیہ کی کتابیں کسی اسٹال پر رکھی جاتیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی اور انہیں فروخت کے لیے پیش کرنے سے روک دیا جاتا۔
آیت اللہ طبسی نے کہا کہ اس وقت انہوں نے دل میں کہا: ’’الحمدللہ، مجھے اپنا انعام مل گیا‘‘؛ یعنی جس حمایت اور اقدام کی انہوں نے رہبرِ شہید سے درخواست کی تھی، اس کے آثار انہیں برسوں بعد بیروت میں سننے کو مل رہے تھے۔
آخری ملاقات
آیت اللہ طبسی نے اپنی آخری ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ رہبرِ شہید کا ہاتھ چومنا چاہتے تھے تو انہوں نے اجازت نہیں دی۔ آیت اللہ طبسی نے کہا کہ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت آقا سید، فرزندِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، عالم اور فقیہ ہیں اور یہ تمام فضیلتیں ان میں موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہاتھ چومنے کی اجازت نہیں دی۔ تاہم بڑی مشکل سے انہیں بازو چومنے کا موقع ملا، جسے وہ اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ان تمام ملاقاتوں میں جو چیز ان کے لیے سب سے نمایاں رہی، وہ رہبرِ شہید کا تواضع، ادب، اخلاق، معرفت، عوام دوستی اور سب کے بالخصوص طلاب کے ساتھ احترام تھا۔










آپ کا تبصرہ